آپ کے ہاتھوں نے سمجھا مار کے قابل مجھے

Tahira Sultana Makhfi

آپ کے ہاتھوں نے سمجھا مار کے قابل مجھے

میں نگوڑی تو یہ سمجھی مل گئی منزل مجھے

مجھ کو نامنظور ہے آپ کا یہ فیصلہ

توڑ دی میری کمر اے بندہ پرور آپ نے

اپنی بھیڑوں بکریوں میں کر لیا شامل مجھے

آپ کے ہاتھوں نے سمجھا مار کے قابل مجھے

سامنے سارے جہاں کے کر دیا گھائل مجھے

آپ کے ہاتھوں نے سمجھا مار کے قابل مجھے

پڑ گئیں منہ پر مرے ہاتھ کی پرچھائیاں

کان میں بجنے لگیں سیکڑوں شہنائیاں

دو جہاں کی آج چوٹیں ہو گئیں حاصل مجھے

آپ کے ہاتھوں نے سمجھا مار کے قابل مجھے