میری آنکھوں کو بخشے ہیں آنسو دل کو داغ الم دے گئے ہیں

Unknown

میری آنکھوں کو بخشے ہیں آنسو دل کو داغ الم دے گئے ہیں

اس عنایت پہ قربان جاؤں پیار مانگا تھا غم دے گئے ہیں

دینے آئے تھے ہم کو تسلی وہ تسلی تو کیا ہم کو دیتے

توڑ کر کعبۂ دل ہمارا حسرتوں کے صنم دے گئے ہیں

دل تڑپتا ہے فریاد کر کے آنکھ ڈرتی ہے آنسو بہا کے

ایسی الفت سے وہ جاتے جاتے مجھ کو اپنی قسم دے گئے ہیں

مرحبا مے کشوں کا مقدر اب تو پینا عبادت ہے انورؔ

آج رندوں کو پینے کی دعوت واعظ محترم دے گئے ہیں