فصل گل ہے سجا ہے مے خانہ

Unknown

فصل گل ہے سجا ہے مے خانہ

چل مرے دل کھلا ہے مے خانہ

شام کے وقت بیٹھنے کے لیے

سب سے اچھی جگہ ہے مے خانہ

خط ہے شاید کسی شرابی کا

خط کے اوپر لکھا ہے مے خانہ

کس طرح چھوڑ دوں اسے واعظ

مشکلوں سے ملا ہے مے خانہ

زندگی جب گزارنی ہے کہیں

یار پھر کیا برا ہے مے خانہ

جب سے وہ آنکھ ہے خفا ہم سے

یوں لگے ہے خفا ہے مے خانہ