حقیقت کا اگر افسانہ بن جائے تو کیا کیجے

Unknown

حقیقت کا اگر افسانہ بن جائے تو کیا کیجے

گلے مل کر بھی وہ بیگانہ بن جائے تو کیا کیجے

ہمیں سو بار ترک مے کشی منظور ہے لیکن

نظر اس کی اگر مے خانہ بن جائے تو کیا کیجے

نظر آتا ہے سجدے میں جو اکثر شیخ صاحب کو

وہ جلوہ جلوۂ جانانہ بن جائے تو کیا کیجے

ترے ملنے سے جو مجھ کو ہمیشہ منع کرتا ہے

اگر وہ بھی ترا دیوانہ بن جائے تو کیا کیجے

خدا کا گھر سمجھ رکھا ہے اب تک ہم نے جس دل کو

قتیلؔ اس میں بھی اک بت خانہ بن جائے تو کیا کیجے