نہ خوشی مجھے ہی ہے وصل کی نہ ہی ہجر کا بھی ملال ہے
Vikram Mishra Angadhنہ خوشی مجھے ہی ہے وصل کی نہ ہی ہجر کا بھی ملال ہے
میں. ہوں کون ذات ہے کیا میری یہی مختصر سا سوال ہے
نہ سفر ہے یہ جسے چاہوں میں کہ یہ ختم ہو بنا تیرے ہی
تو ہے ہم سفر تو ہے ٹھیک پھر نہیں تو سفر یہ محال ہے
یہ دھواں کہاں سے ہے اٹھ رہا کہیں آگ تو ہے لگی نہیں
تو کیوں جل رہے یہاں سب مگر یہی شرطیہ وو سوال ہے
تو ہے یوں چھپا تیری زلف میں کہ ہو ماہ چھپ گیا ابر میں
مرا آرزو تو ہی ہے صنم ترا الحدا سا جمال ہے
جبھی باغباں ہے ی کہہ رہا کہ ہے ٹھیک سب یہاں باغ میں
تو پھر امن باغ میں کیوں نہیں بھلا کون سا یہ وبال ہے