Poetry
Poet
Meter
- ستارےکتنی شدت سے چمکتا ہے بدن تیراUnknown
- اب میں سمجھا ترے رخسار پہ تل کا مطلبدولت حسن پہ دربان بٹھا رکھا ہےUnknown
- اس بھروسے پہ کر رہا ہوں گناہبخش دینا تو تیری فطرت ہےUnknown
- ان کے ہونے سے بخت ہوتے ہیںباپ گھر کے درخت ہوتے ہیںUnknown
- ایک بوسے کے طلب گار ہیں ہماور مانگیں تو گنہ گار ہیں ہمUnknown
- اے آسمان تیرے خدا کا نہیں ہے خوفڈرتے ہیں اے زمین ترے آدمی سے ہمUnknown
- بے چین اس قدر تھا کہ سویا نہ رات بھرپلکوں سے لکھ رہا تھا ترا نام چاند پرUnknown
- پلکوں کی حد کو توڑ کے دامن پہ آ گرااک اشک میرے صبر کی توہین کر گیاUnknown
- پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگیساقی نے جیسے پیاس ملا دی شراب میںUnknown
- پیمانہ کہے ہے کوئی مے خانہ کہے ہےدنیا تری آنکھوں کو بھی کیا کیا نہ کہے ہےUnknown
- تم ہنسو تو دن نکلے چپ رہو تو راتیں ہیںکس کا غم کہاں کا غم سب فضول باتیں ہیںUnknown
- تنہائیاں تمہارا پتہ پوچھتی رہیںشب بھر تمہاری یاد نے سونے نہیں دیاUnknown
- جان لینی تھی صاف کہہ دیتےکیا ضرورت تھی مسکرانے کیUnknown
- جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہکان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیںUnknown
- چہرہ کھلی کتاب ہے عنوان جو بھی دوجس رخ سے بھی پڑھو گے مجھے جان جاؤ گےUnknown
- حسین چہرے کی تابندگی مبارک ہوتجھے یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہوUnknown
- خدا کرے نہ ڈھلے دھوپ تیرے چہرہ کیتمام عمر تری زندگی کی شام نہ ہوUnknown
- دل ٹوٹنے سے تھوڑی سی تکلیف تو ہوئیلیکن تمام عمر کو آرام ہو گیاUnknown
- دل میں طوفان ہو گیا برپاتم نے جب مسکرا کے دیکھ لیاUnknown
- دنیا میں وہی شخص ہے تعظیم کے قابلجس شخص نے حالات کا رخ موڑ دیا ہوUnknown
- دوستی خواب ہے اور خواب کی تعبیر بھی ہےرشتۂ عشق بھی ہے یاد کی زنجیر بھی ہےUnknown
- دیکھا نہ کوہ کن کوئی فرہاد کے بغیرآتا نہیں ہے فن کوئی استاد کے بغیرUnknown
- دیکھا ہلال عید تو آیا تیرا خیالوہ آسماں کا چاند ہے تو میرا چاند ہےUnknown
- زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کریا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہ ہوUnknown
- زندگی کے اداس لمحوں میںبے وفا دوست یاد آتے ہیںUnknown
- زندگی یوں ہی بہت کم ہے محبت کے لیےروٹھ کر وقت گنوانے کی ضرورت کیا ہےUnknown
- سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیںابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیںUnknown
- سنا ہے تیری محفل میں سکون دل بھی ملتا ہےمگر ہم جب تری محفل سے آئے بے قرار آئےUnknown
- شاخیں رہیں تو پھول بھی پتے بھی آئیں گےیہ دن اگر برے ہیں تو اچھے بھی آئیں گےUnknown
- شام ہوتے ہی چراغوں کو بجھا دیتا ہوںدل ہی کافی ہے تری یاد میں جلنے کے لیےUnknown
- شہر میں مزدور جیسا در بدر کوئی نہیںجس نے سب کے گھر بنائے اوس کا گھر کوئی نہیںUnknown
- عید آئی تم نہ آئے کیا مزا ہے عید کاعید ہی تو نام ہے اک دوسرے کی دید کاUnknown
- عید کے بعد وہ ملنے کے لیے آئے ہیںعید کا چاند نظر آنے لگا عید کے بعدUnknown
- عیش کے یار تو اغیار بھی بن جاتے ہیںدوست وہ ہیں جو برے وقت میں کام آتے ہیںUnknown
- غم وہ مے خانہ کمی جس میں نہیںدل وہ پیمانہ ہے بھرتا ہی نہیںUnknown
- فرشتے حشر میں پوچھیں گے پاک بازوں سےگناہ کیوں نہ کیے کیا خدا غفور نہ تھاUnknown
- کتابیں بھی بالکل میری طرح ہیںالفاظ سے بھرپور مگر خاموشUnknown
- کچھ خوشیاں کچھ آنسو دے کر ٹال گیاجیون کا اک اور سنہرا سال گیاUnknown
- کسی کو کیسے بتائیں ضرورتیں اپنیمدد ملے نہ ملے آبرو تو جاتی ہےUnknown
- گزر تو جائے گی تیرے بغیر بھی لیکنبہت اداس بہت بے قرار گزرے گیUnknown
- گونجتے رہتے ہیں الفاظ مرے کانوں میںتو تو آرام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظUnknown
- لوگ کانٹوں سے بچ کے چلتے ہیںمیں نے پھولوں سے زخم کھائے ہیںUnknown
- مانگی تھی ایک بار دعا ہم نے موت کیشرمندہ آج تک ہیں میاں زندگی سے ہمUnknown
- مجھ کو چھاؤں میں رکھا اور خود بھی وہ جلتا رہامیں نے دیکھا اک فرشتہ باپ کی پرچھائیں میںUnknown
- مل کے ہوتی تھی کبھی عید بھی دیوالی بھیاب یہ حالت ہے کہ ڈر ڈر کے گلے ملتے ہیںUnknown
- موت سے کیوں اتنی وحشت جان کیوں اتنی عزیزموت آنے کے لیے ہے جان جانے کے لیےUnknown
- میں اپنے ساتھ رہتا ہوں ہمیشہاکیلا ہوں مگر تنہا نہیں ہوںUnknown
- ہم نے اس کو اتنا دیکھا جتنا دیکھا جا سکتا تھالیکن پھر بھی دو آنکھوں سے کتنا دیکھا جا سکتا تھاUnknown
- یہ بے خودی یہ لبوں کی ہنسی مبارک ہوتمہیں یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہوUnknown
- یہ تو اک رسم جہاں ہے جو ادا ہوتی ہےورنہ سورج کی کہاں سالگرہ ہوتی ہےUnknown