محبت ہی نہ جو سمجھے وہ ظالم پیار کیا جانے

Unknown

محبت ہی نہ جو سمجھے وہ ظالم پیار کیا جانے

نکلتی دل کے تاروں سے جو ہے جھنکار کیا جانے

اسے تو قتل کرنا اور تڑپانا ہی آتا ہے

گلا کس کا کٹا کیوں کر کٹا تلوار کیا جانے

دوا سے فائدہ ہوگا کہ ہوگا زہر قاتل سے

مرض کی کیا دوا ہے یہ کوئی بیمار کیا جانے

کرو فریاد سر ٹکراؤ اپنی جان دے ڈالو

تڑپتے دل کی حالت حسن کی دیوار کیا جانے