دل کی جو آگ تھی کم اس کو بھی ہونے نہ دیا
Uma Shankar Chitravanshi Bazalدل کی جو آگ تھی کم اس کو بھی ہونے نہ دیا
ہم تو روتے تھے مگر آپ نے رونے نہ دیا
شمع کیوں پردۂ فانوس میں چھپ جاتی ہے
اس نے پروانے کو قربان بھی ہونے نہ دیا
یاد دلبر میں کبھی اے دل مضطر تو نے
ہم کو چپ چاپ کہیں بیٹھ کے رونے نہ دیا
آشیاں کا تو کوئی ذکر ہے کیا اے صیاد
جمع تنکوں کو کبھی برق نے ہونے نہ دیا
آستیں آنکھوں پر اس شوخ نے رکھ دی بازلؔ
رو رہا تھا مجھے کس واسطے رونے نہ دیا