محبت کا کوئی تو پیمان ہوتا
Yaseen Bhattiمحبت کا کوئی تو پیمان ہوتا
کہ جن پہ ہمیں بھی بہت مان ہوتا
کبھی اتنے ارزاں نہ ہوتے جہاں میں
ہمیں زندگی کا جو عرفان ہوتا
تجھے کاش رکھتے تصور میں اپنے
کہ ان کے بہلنے کا سامان ہوتا
رہ زندگی میں کبھی نہ کبھی تو
تجھے ڈھونڈ لیتے جو امکان ہوتا
کسی سے تعلق بناتے نہ اتنا
کسی سے نہ ملنے کا ارمان ہوتا
اگر اپنی مٹی پہ یاسینؔ رہتے
کہاں ہجرتوں کا یہ طوفان ہوتا