زمانے میں کہیں دل کو لگانا بھی ضروری تھا

Unknown

زمانے میں کہیں دل کو لگانا بھی ضروری تھا

غلط کچھ بھی نہیں لیکن چھپانا بھی ضروری تھا

غم دوراں میں ہم کو مسکرانا بھی ضروری تھا

کہ کانٹوں سے ہمیں دامن بچانا بھی ضروری تھا

زمانہ کیا کہے گا یہ نہیں سوچا کبھی ہم نے

جو تھا دل میں ہمارے وہ بتانا بھی ضروری تھا

ہمیں پتھر بھی کھانے تھے ہمیں گالی بھی کھانی تھی

مگر دنیا کو آئینہ دکھانا بھی ضروری تھا

ہمیں ہنستے ہوئے بس دیکھتا تو روٹھ جاتا وہ

ہمیں ہنستے ہوئے آنسو بہانا بھی ضروری تھا

نہ ہم سوئے نہ وہ سوئے نہ آئی نیند دونوں کو

مگر جلتے چراغوں کو بجھانا بھی ضروری تھا