ان لبوں کی یاد آئی گل کے مسکرانے سے

Unknown

ان لبوں کی یاد آئی گل کے مسکرانے سے

زخم دل ابھر آئے پھر بہار آنے سے

جانے تھی گریز ان کو یا کہ شرم محفل میں

رات مجھ سے کترائے وہ نظر ملانے سے

راز جو چھپائے تھے آج سب پہ ظاہر ہیں

کچھ مری کہانی سے کچھ ترے فسانے سے

حال جو ہمارا ہے سب تو ان پہ روشن ہے

پھر بتاؤں کیا ہوگا حال دل سنانے سے

ان کو ہم سے کیا مطلب ہم کو کیا غرض فیاضؔ

ترک عشق کر بیٹھے ہم تو اک زمانے سے