گلاب آنکھیں شراب آنکھیں

Unknown

گلاب آنکھیں شراب آنکھیں

یہی تو ہیں لا جواب آنکھیں

انہیں میں الفت انہیں میں نفرت

سوال آنکھیں جواب آنکھیں

کبھی نظر میں بلا کی شوخی

کبھی سراپا حجاب آنکھیں

کبھی چھپاتی ہیں حال دل کے

کبھی ہیں دل کی کتاب آنکھیں

کسی نے دیکھیں تو جھیل جیسی

کسی نے پائیں شراب آنکھیں

وہ آئے تو لوگ مجھ سے بولے

حضور آنکھیں جناب آنکھیں