ستارے

Unknown

ستارے

اب نمو کی آگ مدھم ہوتی جاتی ہے

ہوا میں نکہتوں کی تازگی کم ہوتی جاتی ہے

چمکتے باغیوں کی جھاگ مدھم ہوتی جاتی ہے

ستارے

خاک میں روئیدگی کم ہوتی جاتی ہے

مگر وہ پھول تو یکتا تھا

ان سارے گلابوں میں

اسی کا عکس تھا

میرے لہو میں میرے خوابوں میں

ستارے

روح میں اس کا نشاں

اب کیوں نہیں ملتا

ستارے

میرے پہلو میں وہ گل اب کیوں نہیں کھلتا