جب خلاف مصلحت جینے کی نوبت آئی تھی

Unknown

جب خلاف مصلحت جینے کی نوبت آئی تھی

ڈوب مرتے ڈوب مرنے میں اگر دانائی تھی

میں تو ہر ممکن اسے لاتا رہا تیرے قریب

کیا کروں اے دل تری تقدیر میں تنہائی تھی

خوف کا عفریت سانسیں لے رہا تھا دشت میں

رات کے چہرے پہ سناٹے کی دہشت چھائی تھی

ایک یہ نوبت کہ وحشت ڈھونڈھتا پھرتا ہوں میں

ایک وہ موسم کہ گلشن کی ہوا صحرائی تھی

آسماں سے گر رہی تھی شوخ رنگوں کی پھوار

میری آنکھوں میں ترے دیدار کی رعنائی تھی

شب گزیدوں سے حساب غم چکانے کے لیے

تم نہ آئے تھے مگر صبح قیامت آئی تھی

میں کدھر جاتا کہ ہر جانب زبان خلق تھی

میں کہاں چھپتا کہ میرے کھوج میں رسوائی تھی

دہر میں مشہور تھی شاہدؔ مری بے چارگی

اور ان دیکھے جہانوں پر مری دارائی تھی