سدا رہے گی یہی روانی رواں ہے پانی
Unknownسدا رہے گی یہی روانی رواں ہے پانی
بہاؤ اس کا ہے جاودانی رواں ہے پانی
بہاؤ میں بہہ رہے ہیں موسم نگاہ منظر
بہائے جاتا ہے سب کو پانی رواں ہے پانی
کبھی تھے ان راستوں میں قریے مکان چہرے
یہ داستاں ہے مگر پرانی رواں ہے پانی
نہ اب وہ ساحل نہ اب وہ ہستی نہ وہ فصیلیں
نہ اس زمیں کی کوئی نشانی رواں ہے پانی
وہاں وہ اقلیم جس پہ سکہ رواں تھا اپنا
یہاں ہواؤں کی حکمرانی رواں ہے پانی
وہ رات دن بھی اسی روانی میں بہہ چکے ہیں
بکھر چکیں وہ رتیں سہانی رواں ہے پانی
یہاں میں دہرا رہا ہوں پہلے سفر کی باتیں
مگر کہاں اب وہ شادمانی رواں ہے پانی
یہ اشک دھندلا رہے ہیں پیہم مٹا رہے ہیں
نگاہ میں یاد کی کہانی رواں ہے پانی
وہ محفلیں ہیں نہ اب وہ ساتھی رہے ہیں باقی
نہ اب وہ بچپن نہ وہ جوانی رواں ہے پانی