غربت و وطن

سجاد حیدر یلدرم

بنے ہیں ہونٹ مرے نالہ و فغاں کے لیے

ہے سینہ وقف مرا سوزش نہاں کے لیے

کوئی زمانہ کا شاکی، کوئی فلک کا ہے

ہمارے سارے گلے اپنے مہرباں کے لیے

ہلاک کرکے رہے گا، مجھے تغافل دوست

ہے اک نگاہ کا اغماض نیم جاں کے لیے

ڈھونڈ، ڈھونڈ کے سب مجھ پہ مشق اے احباب

رہے نہ طرز ستم کوئی آسماں کے لیے

ہوئے جو طعنہ اعدا کبھی ذرا کو بند

زباں سے کام اعزا نے خود سناں کے لیے

گڑک چمک تو نہ اے برق اس سے کیا حاصل

شرارہ ایک تھا کافی اس آشیاں کے لیے

مرا جو حصہ ہے، وہ مجھ کو اے مصیبت دے

ہوا کرے ہے اگر عیش کل جہاں کے لیے

چمن میں بلبل مہجور کی نہیں کچھ یاد

تڑپ رہی ہے قفس میں وہ بوستاں کے لئے

بھلا دے یاد وطن جب میں جانوں اے غربت

وطن کا عشق ہے اک روگ میری جاں کے لئے