میرا غم میرے خیالات ہی سب کچھ تو نہیں
Uma Shankar Shadan Gwalioriمیرا غم میرے خیالات ہی سب کچھ تو نہیں
ان کی محفل میں مری بات ہی سب کچھ تو نہیں
عمر اک شب کی نہیں پھر بھی مجھے ہجر کی رات
یہ گماں ہوتا ہے یہ رات ہی سب کچھ تو نہیں
ہوں نہ بندے تو خدائی کی حقیقت کیا ہے
ہم بھی اک شے ہیں تری ذات ہی سب کچھ تو نہیں
میری مشکل مری دوری کا بھی احساس حضور
آپ کی بزم کے اوقات ہی سب کچھ تو نہیں
بطن فردا میں بھی تعمیر کے امکاں ہیں بہت
آج کی صورت حالات ہی سب کچھ تو نہیں
لیجے اب اپنے گریباں کی خبر بھی شاداںؔ
ان کے دامن کی مدارات ہی سب کچھ تو نہیں