چاہتا ہے کوئی اگر اڑنا
Vijay kumar Swarnkarچاہتا ہے کوئی اگر اڑنا
تو ضروری ہے اس کا ڈر اڑنا
بھیڑ بھاری ہے ساری سڑکوں پر
سیکھ لیں شہر میں بشر اڑنا
یہ تو عادت نہیں پرندوں کی
دن میں آرام رات بھر اڑنا
میری کھڑکی سے تم نظر آؤ
جب بھی اڑنا یہ سوچ کر اڑنا
آب و دانے کی فکر کر پیارے
چھوڑ دے یہ ادھر ادھر اڑنا