ہر نئی ایجاد کی کل تک ہمیں بنیاد تھے
Vijay kumar Swarnkarہر نئی ایجاد کی کل تک ہمیں بنیاد تھے
لوگ لوہا بھی نہ تھے جس وقت ہم فولاد تھے
آج ہی طے کیجیے کل کیا کہیں گے قوم کو
ہم ابھی آزاد ہیں یا ہم کبھی آزاد تھے
جھر چکے پتے ہوا سے کہہ رہے ہیں غم نہیں
وہ جڑیں زندہ ہیں اب بھی جن سے ہم آباد تھے
کون سنتا اجنبی کی اجنبی بھاشا میں بات
شور کے دربار میں ہم مون کے سنواد تھے