روکیں نہ اپنی فکر کو پت جھڑ کے آس پاس
Vijay kumar Swarnkarروکیں نہ اپنی فکر کو پت جھڑ کے آس پاس
دیمک لگی ہوئی ہے ہر اک جڑ کے آس پاس
وہ بے دھڑک گھروں میں بھی آئیں گے ایک دن
جو خوف لام بند ہیں نکڑ کے آس پاس
اے کھردرے سمے نہ کوئی بوجھ دل میں رکھ
گزری ہے زندگی مری بیہڑ کے آس پاس
دھرنا نہ دے تو کیا کرے پانی گلی گلی
کتنے مکان بن گئے جوہڑ کے آس پاس