کچھ ٹوٹتا ہے اندر بولو میں کیا کروں اب

Chhabi Saksena Sahai Saba

کچھ ٹوٹتا ہے اندر بولو میں کیا کروں اب

خاموش ہے بونڈر بولو میں کیا کروں اب

ہے رنجشوں سے بھیگی الفت کی چاندنی بھی

تھا چاند ہی ستم گر بولو میں کیا کروں اب

وہ سامنے سے چل کر گزری بہار کب کی

کس سمت ہے مقدر بولو میں کیا کروں اب

میں اپنی حسرتوں کا کیوں رنگ ہی نہ بدل دوں

تصویر ہو جو ابتر بولو میں کیا کروں اب

کچھ اور ہی ہوئے ہم خوابوں سے آ کے باہر

رخصت ہوا فسوں گر بولو میں کیا کروں اب

بے درد ہے زمانہ انجان آسماں ہے

دیکھو چھپے ہیں خنجر بولو میں کیا کروں اب

پھر آج اس نے مجھ کو دیکھا ہے مسکرا کر

ہے حادثہ مقرر بولو میں کیا کروں اب

صیاد لے رہا ہے میرا امتحاں قفس میں

ہر دن ہو جیسے محشر بولو میں کیا کروں اب

ہے آس پاس میرے گلشن سجا گلوں سے

چبھتے ہے لاکھ نشتر بولو میں کیا کروں اب

کس کو بلا رہا ہے اب انتظار تیرا

تنہا ہے سارا منظر بولو میں کیا کروں اب

گرتی صبا پہ آ کر ترک وفا کی بجلی

گو خواب ہیں معطر بولو میں کیا کروں اب