اسی چیز کی کوئی عزت نہیں
ابومحمد سید حسین سیفیاسی چیز کی کوئی عزت نہیں
زمانے کو جس کی ضرورت نہیں
صداقت سے جس کو محبت نہیں
خدا کی قسم اس کو راحت نہیں
ہمیں سے ہے جتنی محبت ہمیں
کسی سے بھی اتنی محبت نہیں
غلامی ہی نعمت ہو جن کے لئے
تجارت میں ان کو مسرت نہیں
نئی کون سی چیز دنیا میں ہے
یہ کہئے کہ اب وہ جہالت نہیں
وہ دنیا کے جھگڑے بڑھائے گا کیا
جسے ذکر خالق سے فرصت نہیں
یہ مانا کہ ہے دشمن بد اجل
مگر اس سے بچنے کی صورت نہیں
جو پہلے تھے اب بھی وہی ہیں مرے
ہماری زباں ہی میں لذت نہیں
خدا کی ضرورت ہے سیفیؔ ہمیں
خدا کو ہماری ضرورت نہیں