کٹ چکا جنگل مگر ضد پر اڑی ہے
Vijay kumar Swarnkarکٹ چکا جنگل مگر ضد پر اڑی ہے
ایک چڑیا گھونسلہ لے کر کھڑی ہے
ایسے ادھڑا ہے بدن سوکھی ندی کا
جیسے کوئی لاش لا وارث پڑی ہے
کھو دیا سب تاپ بادل سے لپٹ کر
دھوپ بھی کس کی محبت میں پڑی ہے
اس محل کے سامنے کیوں رک گئے تم
سو قدم آگے وہ اپنی جھونپڑی ہے
یاد رکھ ہم ایک چھاتے کے تلے ہیں
بھول جا رم جھم ہے اوپر یا جھڑی ہے
بیندھ رکھا تھا تمہارا چتر جس نے
کیل وہ دیوار میں اب بھی گڑی ہے
آدھی آبادی ہے بھڑکی ہم ندی سی
اب کنارے ڈوب جانے کی گھڑی ہے