ہم سلامت ہیں تو اپنا گھر بھی ہے
ابومحمد سید حسین سیفیہم سلامت ہیں تو اپنا گھر بھی ہے
زر بھی ہے زر گر بھی ہے زیور بھی ہے
ابر نیساں آئے اور برسے تو پھر
گل بھی ہے گلشن بھی ہے گوہر بھی ہے
دید کی قوت ہو جب تک آنکھ میں
مہر بھی ہے مہ بھی ہے اختر بھی ہے
بخت جب تک برسر اقبال ہو
تخت بھی ہے تاج بھی ہے سر بھی ہے
ساقئ مہوش اگر ہو مہرباں
مے بھی ہے مینا بھی ہے ساغر بھی ہے
موت کی آنکھوں سے جب تک دور ہیں
چلقد آہن بھی ہے مغفر بھی ہے
وقت پر قائم رہے ہمت اگر
لٹ بھی ہے پتھر بھی ہے خنجر بھی ہے
عقل جب تک پاسباں ہے جان کی
خوف بھی ہے ترس بھی ہے ڈر بھی ہے
قوت پرواز کچھ بھی ہے تو پھر
پر بھی ہے بازو بھی ہے شہ پر بھی ہے
شوق اگر ہے منزل مقصود کا
رہ بھی ہے رہرو بھی ہے رہبر بھی ہے