اری زندگی گلہ اب نہیں جو ہوا تھا سب وہ بجا ہوا
Chhabi Saksena Sahai Sabaاری زندگی گلہ اب نہیں جو ہوا تھا سب وہ بجا ہوا
میرے پیار کا تھا جو کارواں وہ رکا جہاں تھا لٹا ہوا
میری آرزو تھی کہ خوش نما ہو شگفتہ گلستاں ہر کجا
تو وفا کی رسمیں نباہ کے ملا صحرا مجھ کو سجا ہوا
میری جان پہ جو گزر گئی وہ خدا کی نیک عطا ہوئی
میرے آنسوؤں کی نامی سے دھل کے یہ گلستاں بھی ہرا ہوا
رہے راستے بڑے جاں ستاں ہوا پر خطر یوں میرا سفر
یہ بھی حوصلہ تھا جفا کا جو بھی ملا مجھے وہ جدا ہوا
میرے ماتھے کی تو شکن پہ اک بقا بے رحم تھا لکھا ہوا
لکھا ہاتھ کی جو لکیر پہ تھا وہ جب ملا تو جدا ہوا
ارے دوستو میرا دل صباؔ جو نکال کر کبھی دیکھنا
یہ جو تیر ہے میری زندگی کا یوں کب سے مجھ میں چبھا ہوا