بتا روزمرہ کی زندگی تو نے یہ وفا کا صلہ دیا

Chhabi Saksena Sahai Saba

بتا روزمرہ کی زندگی تو نے یہ وفا کا صلہ دیا

مرے ساتھ جو بھی رفاقتیں تھیں سبھی سے پردہ ہٹا دیا

مجھے چھیڑتے ہیں وہ بارہا جو کبھی بڑھاتے تھے حوصلہ

تو میں کیا کروں مجھے منزلوں نے ہی راستے سے ہٹا دیا

مرے ہم نوا مجھے آپ سے ہیں شکایتیں بھی بہت سی اب

کہ نوازشوں کے عروج پہ کیوں چڑھا چڑھا کے گرا دیا

مجھے مات دیتے ہیں مستقل مری جستجو کے یہ قافلے

کبھی رخ ہوا کا جو ساتھ تھا اسی موڑ پہ ہی جھکا دیا

مری زندگی بھی تمہی سے ہے گو کرم بھی تیرا ہے مختصر

میرے غم کی دھند کو پیار کا تو نے صہبا جو تھا پلا دیا

صباؔ آج بھی یہ یقین ہے جو بقا دعا کی پناہ میں

میرے رب نے جوں مرے آسماں کو زمین پر جو بچھا دیا