فطرت سے اس کی آج بھی وہ کل نہیں گیا

Vijay kumar Swarnkar

فطرت سے اس کی آج بھی وہ کل نہیں گیا

رسی تو جل گئی ہے مگر بل نہیں گیا

آپس کی پھوٹ کر گئی بارش کو داغدار

بیساکھ میں بھی گاؤں کا دلدل نہیں گیا

صورت بدل بھی جائے تو سیرت نہ جائے ہے

پتھر ندی میں گول ہوا گل نہیں گیا

بوڑھوں نے گاؤں اس لئے چھوڑا نہیں کبھی

چوپال چھوڑ کر کہیں پیپل نہیں گیا