وہ سوز و ساز وہ نغمہ خیال و خواب ہوا
Uma Shankar Shadan Gwalioriوہ سوز و ساز وہ نغمہ خیال و خواب ہوا
مٹا کے ہم کو زمانہ بہت خراب ہوا
وہ شخص موم کا چہرہ لگائے پھرتا تھا
وہ آج دھوپ میں نکلا تو بے نقاب ہوا
حریم ناز سے آئی ہے قہقہوں کی صدا
مرے سوال کا شاید یہی جواب ہوا
ہزار بار ترا شکریہ غم دوراں
ہزار بار ہمارا ہی انتخاب ہوا
خدا گواہ کوئی مجھ سا خوش نصیب نہیں
صلیب و دار پہ جب بھی ہوا حساب ہوا
چھوا جو پھول تو شاداںؔ الجھ گئے کانٹے
گلوں سے ہاتھ لگانا بھی اک عذاب ہوا