ہنستے ہنستے کہہ دی بات

Paikar Yazdani

ہنستے ہنستے کہہ دی بات

تم نے آخر کڑوی بات

میرے لئے پتھر کی لکیر

کانپ کے منہ سے نکلی بات

برسوں بعد بھی لگتا ہے

جیسے ہو کل ہی کی بات

پل میں لہجہ بدل گیا

دیکھی تم نے اس کی بات

آنکھوں میں چہرہ ان کا

دل میں اک اک ان کی بات

پیکرؔ ایسا جھوٹ نہ بول

لگنے لگے جو سچی بات