گزرے ہے دل پہ جو وہ کہیں کیا کسی سے ہم

Paikar Yazdani

گزرے ہے دل پہ جو وہ کہیں کیا کسی سے ہم

اپنوں میں ہو کے رہ گئے اک اجنبی سے ہم

اس واقعہ کا تجزیہ کرنا محال ہے

سہمی ہوئی ہے ہم سے خوشی یا خوشی سے ہم

رہنے لگے خفا خفا سورج بھی چاند بھی

مانوس کیا ہوئے ہیں کسی روشنی سے ہم

دن دن ہے رات رات ہے یہ جاننے کے بعد

کیسے نباہ کرتے بھلا تیرگی سے ہم

جانا ہے اس مقام پہ رستہ کٹھن سہی

لائیں جو انقلاب کوئی شاعری سے ہم

پیکرؔ ہماری شان کے قطعاً خلاف ہے

آنکھیں چرا چرا کے جئیں زندگی سے ہم