نہ لائے دیکھنے کی تاب جلوہ دیکھنے والے

S. Nooruddin Anwar Bhopali

نہ لائے دیکھنے کی تاب جلوہ دیکھنے والے

تماشا بن گئے خود ہی تماشا دیکھنے والے

سراپا طنز ہوں اور طنز بھی منشائے فطرت کا

مجھے کیا دیکھتا ہے جا گزر جا دیکھنے والے

کہیں تیری نظر افسانۂ موسیٰ نہ بن جائے

ذرا ہشیار رہنا دل کی دنیا دیکھنے والے

بہر صورت تجھی کو دیکھتے ہیں جس طرح دیکھوں

تیری نظروں سے بچ کر تیرا جلوہ دیکھنے والے

ابھی پردے تعین کے کہاں اٹھے ہیں اے غافل

ابھی دیکھا ہی کیا ہے تو نے جلوہ دیکھنے والے

تو اپنے منصب عالی سے بھی اے کاش واقف ہو

بہ حیرت جانب اوج ثریا دیکھنے والے

کمال حسن کا نظارہ نا ممکن سہی انورؔ

مگر کچھ دیکھ ہی لیتے ہیں جلوہ دیکھنے والے