مدام لے کے مجھے حلقہ وار ناچتی ہے
Tabassum Anwarمدام لے کے مجھے حلقہ وار ناچتی ہے
جدھر چلوں نگہ طرح دار ناچتی ہے
ملا ہے وعدۂ فردا بجائے نقد وصال
ہماری روح کو دیکھو ادھار ناچتی ہے
یہ کس نظر نے طلسم خزاں کو کاٹ دیا
پلک جھپکتے میں ہر سو بہار ناچتی ہے
پھرے ملول وہ درگاہ کے احاطے میں
اور آئے وجد میں تو بے شمار ناچتی ہے
پٹخ کے سر کبھی روتا ہے ہجر کا آزار
امید وصل کبھی بار بار ناچتی ہے
وحی نہیں اسے درکار اذن خاکی تھا
جو مل گیا تو یہ مشت غبار ناچتی ہے
ہماری روح تبسمؔ سخن کی ہے جوگن