اس بت کی زباں پر لو انورؔ پھر آج تمہارا نام آیا
S. Nooruddin Anwar Bhopaliاس بت کی زباں پر لو انورؔ پھر آج تمہارا نام آیا
کیا جذب محبت جاگ اٹھا کیا جوش جنوں پھر کام آیا
لو دیکھ لو وہ نمناک آنکھیں لو سن لو وہ زیر لب آہیں
بیمار حسیں کے ہونٹوں پر کیا جانئے کیا پیغام آیا
ان مست نگاہوں نے اٹھ کر فوراً ہی پلا دی تھوڑی سی
رندوں پہ جہاں ہشیاری کا محفل میں کوئی الزام آیا
کیا جانئے کیوں دل بھر آیا معلوم نہیں کیا بات ہوئی
پھر ایک دھواں سا دل سے اٹھا جب میرے لبوں تک جام آیا
کچھ تجھ کو خبر بھی ہے ظالم اے مست خرام بے پردا
یہ خاک کا ذرہ ذرہ کیوں دل بن کے بہ زیر گام آیا
دیتا ہوں تسلی میں انورؔ دل کو یہی کہہ کہہ کر اکثر
اب نامہ بر آنے والا ہے اب ان کا کوئی پیغام آیا