ہے میرے سامنے تصویر چشم یار ہنوز
S. Nooruddin Anwar Bhopaliہے میرے سامنے تصویر چشم یار ہنوز
میں پی رہا ہوں مئے حسن بار بار ہنوز
تمام رات وہ اٹھ اٹھ کے بیٹھنا توبہ
مری نگاہ میں ہے حشر انتظار ہنوز
بقدر شوق ترا درد مند عشق ہوں میں
بقدر ظرف مرا دل ہے بیقرار ہنوز
اگرچہ ایک دفعہ پی تھی زندگی کی شراب
بھگت رہا ہوں میں خمیازۂ خمار ہنوز
بہار روٹھ کے مجھ سے چلی گئی لیکن
مری نگاہ میں ہے جلوۂ بہار ہنوز
یقین ہے کہ وہ انورؔ یہاں نہ آئیں گے
اٹھا رہا ہوں مگر لطف انتظار ہنوز