مجھ کو ڈر ہے کہیں ایسا دل ناکام نہ ہو

Uma Shankar Shadan Gwaliori

مجھ کو ڈر ہے کہیں ایسا دل ناکام نہ ہو

عشق آغاز ہی آغاز ہو انجام نہ ہو

گردش جام تو ہو گردش ایام نہ ہو

یہ کوئی بات ہوئی صبح تو ہو شام نہ ہو

دامن شام کی رنگین فضاؤ دیکھو

کوئی آشفتہ سر حسن سر بام نہ ہو

کر دیا کیا یہ مرے ذوق طلب نے مجھ کو

نام پر تیرے گماں ہے کہ مرا نام نہ ہو

خود نمائی کے کرم حد سے سوا ہیں شاداںؔ

اب مرا شوق کہیں مورد الزام نہ ہو