وہ کم آمیز مجھ سے ہم سخن ہونے لگا ہے

Tabassum Anwar

وہ کم آمیز مجھ سے ہم سخن ہونے لگا ہے

بہ یک لحظہ یہ دشت دل چمن ہونے لگا ہے

سہولت سے وہ پڑھتا جا رہا ہے ذہن میرا

بدن سوچوں کا پھر بے پیرہن ہونے لگا ہے

مری تنہائی اور وحشت میں پھر سے ٹھن گئی ہے

یوں لگتا ہے کوئی گھمسان رن ہونے لگا ہے

عطا کیجے مرے مرشد مجھے کوئی وظیفہ

مرا دل پھر سے دنیا میں مگن ہونے لگا ہے

یہ روحوں کے ملن کی کر نہ دے مسدود راہیں

کہ حائل اس ملن میں اب بدن ہونے لگا ہے

پکڑ ہی لی جڑیں الفت نے آخر اس زمیں میں

دیار غیر اب میرا وطن ہونے لگا ہے

بٹھا رکھے ہیں اس نے مجھ پہ یوں نادیدہ پہرے

کھلا ماحول بھی من کی گھٹن ہونے لگا ہے

مرے طرز تکلم میں تھا جو بے ساختہ پن

وہی میرے سخن کا بانکپن ہونے لگا ہے

جہاں تیاگا تبسمؔ جس کو اپنانے کی خاطر

اسی سے اب بچھڑنے کا جتن ہونے لگا ہے