نہیں اپنے تو بیگانے بہت ہیں

Paikar Yazdani

نہیں اپنے تو بیگانے بہت ہیں

جہاں میں آئنہ خانے بہت ہیں

پریشاں کیوں ہو میرے ہم رکابو

مرے غم کو مرے شانے بہت ہیں

زمانہ بھر کی حجت کے مقابل

فقط تسبیح کے دانے بہت ہیں

ابھی سے آپ ہمت ہار بیٹھے

ابھی الزام سر آنے بہت ہیں

ہمیں رکھا ہے کس درجے میں صاحب

سنا ہے آپ کے خانے بہت ہیں

کسی کو شام کی ہے فکر لاحق

کسی کو شوق فرمانے بہت ہیں

اسی کا نام پیکرؔ زندگی ہے

مراحل سامنے آنے بہت ہیں