اے ہم نشیں خدا کے لئے امتحاں نہ کر
Nabi Bakhsh Nayabاے ہم نشیں خدا کے لئے امتحاں نہ کر
تو میرے پاس میری حکایت بیاں نہ کر
زندہ ہے راہ یار میں اے دل جو مر گیا
پروانہ وار جان فدا کر فغاں نہ کر
شادی کے بعد دے نہ خدایا کسی کو غم
دینا ہو جس کو غم تو اسے شادماں نہ کر
مٹی میں مل چکی ہیں بہت ایسی صورتیں
اتنا غرور حسن تو او نوجواں نہ کر
نایابؔ جی میں سوچ کہاں تک یہ زندگی
اوروں کے نفع کے لئے اپنا زیاں نہ کر