دے جس کو شراب ناب پانی کا مزا
مرزا علی لطفدے جس کو شراب ناب پانی کا مزا
کیا خاک ہے اس کو زندگانی کا مزا
اے جان جوانی وہ جواں مرگ مری
تجھ بن ہو ذرا جیسے جوانی کا مزا
دے جس کو شراب ناب پانی کا مزا
کیا خاک ہے اس کو زندگانی کا مزا
اے جان جوانی وہ جواں مرگ مری
تجھ بن ہو ذرا جیسے جوانی کا مزا