جب سے مری تقدیر کا ڈوبا سورج

Laiq Aajiz

جب سے مری تقدیر کا ڈوبا سورج

اس روز سے اب تک نہیں دیکھا سورج

ڈوبے گا بہت جلد یہ چڑھتا سورج

اس واسطے میں نے نہیں پوجا سورج

جب سے ترے چہرے کی چمک دیکھی ہے

آنکھوں کو مری اک نہیں جچتا سورج

تاریکی سے ہر شخص کو فرصت تو ملی

میرے لیے اب تک نہیں نکلا سورج

کرنوں کو وہ بازار میں بیچ آیا ہے

شاید کہ کئی دن سے تھا بھوکا سورج

تم نے تو کئی لوگوں کو بانٹے لیکن

میں نے تو کبھی ایک نہ پایا سورج

برسوں سے زمانے کو سحر دے نہ سکا

حالات میں کچھ اس طرح الجھا سورج

آیا ہے تصور میں سر شام کوئی

میرے افق ذہن پہ نکلا سورج

عاجزؔ کو پریشان نہیں کر سکتا

افلاک مصائب کا یہ تپتا سورج