دشمنوں کو دوست بھائی کو ستم گر کہہ دیا

Laiq Aajiz

دشمنوں کو دوست بھائی کو ستم گر کہہ دیا

لوگ کیوں برہم ہیں کیا شیشے کو پتھر کہہ دیا

اس لیے مجھ کو امیر شہر نے دی ہے سزا

میں نے خود کو خادم سبط پیمبر کہہ دیا

چڑھتے سورج کی پرستش میں سبھی مصروف تھے

مجھ سے جب پوچھا گیا اللہ اکبر کہہ دیا

کتنے سادہ لوح ہیں یہ سب سفیران جنوں

راہزن بھی مل گیا تو اس کو رہبر کہہ دیا

ہو گیا دشمن بھی میرے حوصلے کا معترف

مجھ کو دریائے حوادث کا شناور کہہ دیا

شعر کہنے میں مجھے عاجزؔ مزہ آنے لگا

اس نے جب بے ساختہ مجھ کو سخن ور کہہ دیا