ایک دنیا بنا گئی مٹی

Laiq Aajiz

ایک دنیا بنا گئی مٹی

جس گھڑی روح پا گئی مٹی

جس نے سوچا کہ روند دیں اس کو

آخر اک دن چبا گئی مٹی

میں نے جتنے بھی بیج بوئے تھے

بانجھ عورت تھی کھا گئی مٹی

تشنگی تھی کنویں کی قیمت میں

بدلی چھائی گرا گئی مٹی

سرخ رو ہے وہ ساری دنیا میں

ساتھ جس کا نبھا گئی مٹی

سب قبالے اٹھا کے لے آئی

کسی کی ہے یہ بتا گئی مٹی

کس نے کب کس کو کیسے قتل کیا

شکل سب کی چھپا گئی مٹی