Poetry

Poet
Meter
  1. فصل گل آئی ہوا اور ہوئیباغ عالم کی فضا اور ہوئیمنشی ٹھاکر پرساد طالب
  2. مہرباں مجھ پہ دم نزع وہ گلفام ہوابارے آغاز سے بہتر مرا انجام ہوامنشی ٹھاکر پرساد طالب
  3. میں نہ ہوں گا کبھی تجھ سے بت عیار جداآگ پتھر سے نہیں ہونے کی زنہار جدامنشی ٹھاکر پرساد طالب
  4. ہاں کبھی ہے کبھی ہے یار نہیںہاں نہیں کا کچھ اعتبار نہیںمنشی ٹھاکر پرساد طالب
  5. امید ہے کہ مجھ کو خدا آدمی کرےپر آدمی کرے تو بھلا آدمی کرےمنتظر لکھنوی
  6. جس کی بخدا اس بت کافر پہ نظر ہےچھاتی ہے پہاڑ اس کی تو پتھر کا جگر ہےمنتظر لکھنوی
  7. خفا ہم سے وہ بے سبب ہو گیاغضب ہو گیا ہے غضب ہو گیامنتظر لکھنوی
  8. دیدہ ہے کہیں دل کہیں اور جان کہیں اوربیٹھا تو ہوں یاں پر ہے مرا دھیان کہیں اورمنتظر لکھنوی
  9. دیکھ کر یہ چلن تمہارے ہمخاک میں مل گئے بے چارے ہممنتظر لکھنوی
  10. عاشق زار ہوں دیوانہ ہوںمیں بھی اک شمع کا پروانہ ہوںمنتظر لکھنوی
  11. عمر بھر اس پہ میں مرا ہی کیاوہ مسیحا بھی دم دیا ہی کیامنتظر لکھنوی
  12. وہ ان زلفوں کا عالم ابتری کاسبب تھا میری شوریدہ سری کامنتظر لکھنوی
  13. ہم نہ وحشت کے مارے مرتے ہیںتیری دہشت کے مارے مرتے ہیںمنتظر لکھنوی
  14. یادگار زمانہ ہیں ہم لوگسن رکھو تم فسانہ ہیں ہم لوگمنتظر لکھنوی
  15. یک بیک جاتا رہا دلبر جو گھر آیا ہوادوڑا دوڑا میں پھرا گلیوں میں گھبرایا ہوامنتظر لکھنوی
  16. اس شوخ کے انداز کو دیکھا تو غضب ہےاور اس کے سوا ناز کو دیکھا تو غضب ہےمنتظر لکھنوی
  17. دل کسو سے تو کیا لگانا تھاہم کو منظور جی سے جانا تھامنتظر لکھنوی
  18. یار سے دست و گریباں نہ ہوا تھا سو ہواکبھی اتنا میں پشیماں نہ ہوا تھا سو ہوامنتظر لکھنوی
  19. آپ کیا ایک ستم گار بنے بیٹھے ہیںغیر بھی تو مرے غم خوار بنے بیٹھے ہیںمرزا مائل دہلوی
  20. اشک گلگوں کو نہ خون شہدا کو دیکھاشوخ جیسا کہ ترے رنگ حنا کو دیکھامرزا مائل دہلوی
  21. ایسی کیا تھیں عتاب کی باتیںمیں تو کہتا تھا خواب کی باتیںمرزا مائل دہلوی
  22. اے ستم گر نہیں دیکھا جاتازخم دل پر نہیں دیکھا جاتامرزا مائل دہلوی
  23. باتیں ہیں واعظوں کی عذاب و ثواب کیادو دن کی زندگی میں حساب و کتاب کیامرزا مائل دہلوی
  24. بن بن کے بگڑ جائے گی تدبیر کہاں تکچکر میں رکھے گی مجھے تقدیر کہاں تکمرزا مائل دہلوی
  25. پھر آ گئی اک بت پہ طبیعت کو ہوا کیاٹلتی ہی نہیں سر سے مصیبت کو ہوا کیامرزا مائل دہلوی
  26. تم خوب اڑاتے رہو خاکہ مرے دل کاپیدا نہیں دشمن کوئی تم سا مرے دل کامرزا مائل دہلوی
  27. تم لے کے اپنے ہاتھ میں خنجر نہ دیکھنااور دیکھنا تو تن پہ مرے سر نہ دیکھنامرزا مائل دہلوی
  28. ڈوبا ہوا اٹھوں دم محشر شراب میںدے دیں کفن جو یار ڈبو کر شراب میںمرزا مائل دہلوی
  29. شکر اس نے کیا لب پہ مگر نام نہ آیامرنا بھی مرا ہائے مرے کام نہ آیامرزا مائل دہلوی
  30. کس منہ سے کروں میں تن عریاں کی شکایتداماں کی شکایت نہ گریباں کی شکایتمرزا مائل دہلوی
  31. نہ ہو شباب تو کیفیت شراب کہاںنہ ہو شباب تو کیفیت شباب کہاںمرزا مائل دہلوی
  32. واعظ پئے ہوئے ہوں خدا کے لئے نہ چھیڑدھڑکا مٹا ہوا ہے عذاب و ثواب کامرزا مائل دہلوی
  33. اس ستم گار نے سیکھا ہے خفا ہو جاناکیا قیامت ہوا نالوں کا رسا ہو جاناناصری لکھنوی
  34. اک قیامت ہے بپا شور دل دلگیر سےاڑ گئے ٹکڑے فلک کے آہ کی تاثیر سےناصری لکھنوی
  35. باتوں باتوں میں کیا خوں آج اک دلگیر کاواہ کیا کہنا تری رنگینیٔ تقریر کاناصری لکھنوی
  36. جاں اپنی وقف زحمت ہجراں کئے ہوئےعاشق ہر اک بلا کو ہیں مہماں کئے ہوئےناصری لکھنوی
  37. دلبر کا کیا گلہ کوئی غم خوار بھی نہیںپہلو میں آج تو دل بیمار بھی نہیںناصری لکھنوی
  38. دل دھڑکنے لگا فریاد کی نوبت آئیتم چلے اٹھ کے مری جان قیامت آئیناصری لکھنوی
  39. دوبارہ زیست کہیں غم میں مبتلا نہ کرےوہ ساتھ غیر کے ہوں حشر میں خدا نہ کرےناصری لکھنوی
  40. دیکھ تو فرقت میں کیا کیا حال دل پر غم ہوارات بھر سینے میں اے ظالم بڑا ماتم ہواناصری لکھنوی
  41. قربان ہے سو جان سے تم پر گلہ کیسادیکھو تو مرے دل نے کیا حوصلہ کیساناصری لکھنوی
  42. کس طرح زخمی کیا تم نے نگاہ ناز سےرات بھر رویا کیا دل درد کی آواز سےناصری لکھنوی
  43. میں تو عاجز ہوں تمہیں پوچھو دل ناکام سےکیوں تڑپ جاتا ہے سینے میں تمہارے نام سےناصری لکھنوی
  44. یاد آتی ہے مجھے جب خوش بیانی آپ کیکچھ نئے لفظوں میں کہتا ہوں کہانی آپ کیناصری لکھنوی
  45. یاس و حسرت درد و غم ان سب کی منزل ایک ہےبیکسی میں آفتیں اتنی ہیں اور دل ایک ہےناصری لکھنوی
  46. یوں مبتلا کسی پہ کوئی اے خدا نہ ہودل دے دیا ہو اور امید وفا نہ ہوناصری لکھنوی
  47. آئی ہے اس بت کافر پہ طبیعت اپنیبخت اپنے ہیں نصیب اپنے ہیں قسمت اپنیQamar Hilali
  48. آئی ہے پھر بہار کیا کہناچشم ہیں اشک بار کیا کہناQamar Hilali
  49. اب تو زندہ ہوئے ہیں ہم مر کےآئیے دیکھ لیں نظر بھر کےQamar Hilali
  50. تاب کو آفتاب میں دیکھاآب موج سراب میں دیکھاQamar Hilali