Poetry
Poet
Meter
- فصل گل آئی ہوا اور ہوئیباغ عالم کی فضا اور ہوئیمنشی ٹھاکر پرساد طالب
- مہرباں مجھ پہ دم نزع وہ گلفام ہوابارے آغاز سے بہتر مرا انجام ہوامنشی ٹھاکر پرساد طالب
- میں نہ ہوں گا کبھی تجھ سے بت عیار جداآگ پتھر سے نہیں ہونے کی زنہار جدامنشی ٹھاکر پرساد طالب
- ہاں کبھی ہے کبھی ہے یار نہیںہاں نہیں کا کچھ اعتبار نہیںمنشی ٹھاکر پرساد طالب
- امید ہے کہ مجھ کو خدا آدمی کرےپر آدمی کرے تو بھلا آدمی کرےمنتظر لکھنوی
- جس کی بخدا اس بت کافر پہ نظر ہےچھاتی ہے پہاڑ اس کی تو پتھر کا جگر ہےمنتظر لکھنوی
- خفا ہم سے وہ بے سبب ہو گیاغضب ہو گیا ہے غضب ہو گیامنتظر لکھنوی
- دیدہ ہے کہیں دل کہیں اور جان کہیں اوربیٹھا تو ہوں یاں پر ہے مرا دھیان کہیں اورمنتظر لکھنوی
- دیکھ کر یہ چلن تمہارے ہمخاک میں مل گئے بے چارے ہممنتظر لکھنوی
- عاشق زار ہوں دیوانہ ہوںمیں بھی اک شمع کا پروانہ ہوںمنتظر لکھنوی
- عمر بھر اس پہ میں مرا ہی کیاوہ مسیحا بھی دم دیا ہی کیامنتظر لکھنوی
- وہ ان زلفوں کا عالم ابتری کاسبب تھا میری شوریدہ سری کامنتظر لکھنوی
- ہم نہ وحشت کے مارے مرتے ہیںتیری دہشت کے مارے مرتے ہیںمنتظر لکھنوی
- یادگار زمانہ ہیں ہم لوگسن رکھو تم فسانہ ہیں ہم لوگمنتظر لکھنوی
- یک بیک جاتا رہا دلبر جو گھر آیا ہوادوڑا دوڑا میں پھرا گلیوں میں گھبرایا ہوامنتظر لکھنوی
- اس شوخ کے انداز کو دیکھا تو غضب ہےاور اس کے سوا ناز کو دیکھا تو غضب ہےمنتظر لکھنوی
- دل کسو سے تو کیا لگانا تھاہم کو منظور جی سے جانا تھامنتظر لکھنوی
- یار سے دست و گریباں نہ ہوا تھا سو ہواکبھی اتنا میں پشیماں نہ ہوا تھا سو ہوامنتظر لکھنوی
- آپ کیا ایک ستم گار بنے بیٹھے ہیںغیر بھی تو مرے غم خوار بنے بیٹھے ہیںمرزا مائل دہلوی
- اشک گلگوں کو نہ خون شہدا کو دیکھاشوخ جیسا کہ ترے رنگ حنا کو دیکھامرزا مائل دہلوی
- ایسی کیا تھیں عتاب کی باتیںمیں تو کہتا تھا خواب کی باتیںمرزا مائل دہلوی
- اے ستم گر نہیں دیکھا جاتازخم دل پر نہیں دیکھا جاتامرزا مائل دہلوی
- باتیں ہیں واعظوں کی عذاب و ثواب کیادو دن کی زندگی میں حساب و کتاب کیامرزا مائل دہلوی
- بن بن کے بگڑ جائے گی تدبیر کہاں تکچکر میں رکھے گی مجھے تقدیر کہاں تکمرزا مائل دہلوی
- پھر آ گئی اک بت پہ طبیعت کو ہوا کیاٹلتی ہی نہیں سر سے مصیبت کو ہوا کیامرزا مائل دہلوی
- تم خوب اڑاتے رہو خاکہ مرے دل کاپیدا نہیں دشمن کوئی تم سا مرے دل کامرزا مائل دہلوی
- تم لے کے اپنے ہاتھ میں خنجر نہ دیکھنااور دیکھنا تو تن پہ مرے سر نہ دیکھنامرزا مائل دہلوی
- ڈوبا ہوا اٹھوں دم محشر شراب میںدے دیں کفن جو یار ڈبو کر شراب میںمرزا مائل دہلوی
- شکر اس نے کیا لب پہ مگر نام نہ آیامرنا بھی مرا ہائے مرے کام نہ آیامرزا مائل دہلوی
- کس منہ سے کروں میں تن عریاں کی شکایتداماں کی شکایت نہ گریباں کی شکایتمرزا مائل دہلوی
- نہ ہو شباب تو کیفیت شراب کہاںنہ ہو شباب تو کیفیت شباب کہاںمرزا مائل دہلوی
- واعظ پئے ہوئے ہوں خدا کے لئے نہ چھیڑدھڑکا مٹا ہوا ہے عذاب و ثواب کامرزا مائل دہلوی
- اس ستم گار نے سیکھا ہے خفا ہو جاناکیا قیامت ہوا نالوں کا رسا ہو جاناناصری لکھنوی
- اک قیامت ہے بپا شور دل دلگیر سےاڑ گئے ٹکڑے فلک کے آہ کی تاثیر سےناصری لکھنوی
- باتوں باتوں میں کیا خوں آج اک دلگیر کاواہ کیا کہنا تری رنگینیٔ تقریر کاناصری لکھنوی
- جاں اپنی وقف زحمت ہجراں کئے ہوئےعاشق ہر اک بلا کو ہیں مہماں کئے ہوئےناصری لکھنوی
- دلبر کا کیا گلہ کوئی غم خوار بھی نہیںپہلو میں آج تو دل بیمار بھی نہیںناصری لکھنوی
- دل دھڑکنے لگا فریاد کی نوبت آئیتم چلے اٹھ کے مری جان قیامت آئیناصری لکھنوی
- دوبارہ زیست کہیں غم میں مبتلا نہ کرےوہ ساتھ غیر کے ہوں حشر میں خدا نہ کرےناصری لکھنوی
- دیکھ تو فرقت میں کیا کیا حال دل پر غم ہوارات بھر سینے میں اے ظالم بڑا ماتم ہواناصری لکھنوی
- قربان ہے سو جان سے تم پر گلہ کیسادیکھو تو مرے دل نے کیا حوصلہ کیساناصری لکھنوی
- کس طرح زخمی کیا تم نے نگاہ ناز سےرات بھر رویا کیا دل درد کی آواز سےناصری لکھنوی
- میں تو عاجز ہوں تمہیں پوچھو دل ناکام سےکیوں تڑپ جاتا ہے سینے میں تمہارے نام سےناصری لکھنوی
- یاد آتی ہے مجھے جب خوش بیانی آپ کیکچھ نئے لفظوں میں کہتا ہوں کہانی آپ کیناصری لکھنوی
- یاس و حسرت درد و غم ان سب کی منزل ایک ہےبیکسی میں آفتیں اتنی ہیں اور دل ایک ہےناصری لکھنوی
- یوں مبتلا کسی پہ کوئی اے خدا نہ ہودل دے دیا ہو اور امید وفا نہ ہوناصری لکھنوی
- آئی ہے اس بت کافر پہ طبیعت اپنیبخت اپنے ہیں نصیب اپنے ہیں قسمت اپنیQamar Hilali
- آئی ہے پھر بہار کیا کہناچشم ہیں اشک بار کیا کہناQamar Hilali
- اب تو زندہ ہوئے ہیں ہم مر کےآئیے دیکھ لیں نظر بھر کےQamar Hilali
- تاب کو آفتاب میں دیکھاآب موج سراب میں دیکھاQamar Hilali