مہرباں مجھ پہ دم نزع وہ گلفام ہوا
منشی ٹھاکر پرساد طالبمہرباں مجھ پہ دم نزع وہ گلفام ہوا
بارے آغاز سے بہتر مرا انجام ہوا
کبھی آتا نہیں یاں حرف شکایت لب تک
کیا زباں پر بھی مسلط دل ناکام ہوا
قید ہستی سے رہا ہوں گا نہ بے موت آئے
مجھ سے وحشی کے لئے تار نفس دام ہوا
شانہ کہتا ہے مرے دل سے مخاطب ہو کر
جو پھنسا زلف میں وہ مورد آلام ہوا
دہن یار کے مضموں جو غزل میں دیکھے
لوگ کہنے لگے شاعر کو یہ الہام ہوا
حرف رخصت تو زباں پر ترے آیا بھی نہ تھا
مضطرب پہلے ہی کیوں یہ دل ناکام ہوا
اپنے ساقی کی شکایت نہیں کرتا لیکن
دور کیسا ہے کہ مملو نہ مرا جام ہوا
رنگ فق ماہ منور کا ہوا گردوں پر
جلوہ فرما وہ پری رو جو لب بام ہوا
اس زمانے میں وہ جادو ہے خوشامد کا کلام
جس نے طالبؔ سنا وہ بندۂ بے دام ہوا