Poetry
Poet
Meter
- تم یوں ہی سمجھنا کہ فنا میرے لیے ہےپر غیب سے سامان بقا میرے لیے ہےمحمد علی جوہر
- تنہائی کے سب دن ہیں، تنہائی کی سب راتیںاب ہونے لگیں ان سے ، خلوت میں ملاقاتیںمحمد علی جوہر
- خاک جینا ہے اگر موت سے ڈرنا ہے یہیہوس زیست ہو اس درجہ تو مرنا ہے یہیمحمد علی جوہر
- خوگر جور پہ تھوڑی سی جفا اور سہیاس قدر ظلم پہ موقوف ہے کیا اور سہیمحمد علی جوہر
- دل کو ہلاک جلوۂ جاناں بنائیےاس بت کدے کو کعبۂ ایماں بنائیےمحمد علی جوہر
- دور حیات آئے گا قاتل قضا کے بعدہے ابتدا ہماری تری انتہا کے بعدمحمد علی جوہر
- ڈر نہیں مجھ کو گناہوں کی گراں باری کاتیری رحمت ہے سبب میری سبک ساری کامحمد علی جوہر
- عرش تک جو بے خطا جاتا ہے یہ وہ تیر ہےغیر سمجھا ہے کہ میری آہ بے تاثیر ہےمحمد علی جوہر
- قید اور قید بھی تنہائی کیشرم رہ جائے شکیبائی کیمحمد علی جوہر
- کس سے آزردہ مرے قاتل کا خنجر ہو گیاکیا ہوا جو آج یوں جامے سے باہر ہو گیامحمد علی جوہر
- گلہ اے دل ابھی سے کرتا ہےعشق کا دم اسی پہ بھرتا ہےمحمد علی جوہر
- ہم معنی ہوس نہیں اے دل ہوائے دوستراضی ہو بس اسی میں ہو جس میں رضائے دوستمحمد علی جوہر
- تجھے کچھ یاد ہے پہلا وہ عالم عشق پنہاں کاشگاف پردہ سے کیا تھا اشارہ چشم فتاں کاممنون نظام الدین
- تجھے نقش ہستی مٹایا تو دیکھاجو پردہ تھا حائل اٹھایا تو دیکھاممنون نظام الدین
- جو بعد مرگ بھی دل کو رہی کنار میں جاتو سو چکا میں فراغت سے بس مزار میں جاممنون نظام الدین
- جھکی نگہ میں ہے ڈھب پرسش نہانی کاحیا میں زور دیا رنگ مہربانی کاممنون نظام الدین
- رکھے ہے رنگ کچھ ساقی شراب ناب آتش کامقطر کیا کیا لے کر گل شاداب آتش کاممنون نظام الدین
- کب گل ہے ہوا خواہ صبا اپنے چمن کاوا جنبش دم سے ہے رفو زخم کہن کاممنون نظام الدین
- کل وصل میں بھی نیند نہ آئی تمام شبایک ایک بات پر تھی لڑائی تمام شبممنون نظام الدین
- کھا کے کل ہو پیچ و تاب اٹھا جو دل سے نالہ تھاجا کے گردوں پہ چمکتا شعلۂ جوالہ تھاممنون نظام الدین
- گماں نہ کیونکہ کروں تجھ پہ دل چرانے کاجھکا کے آنکھ سبب کیا ہے مسکرانے کاممنون نظام الدین
- نور مہ کو شب تہ ابر تنک کیا لاف تھابال اس مکھڑے سے اٹھ جاتے تو مطلع صاف تھاممنون نظام الدین
- ہر حرف آرزو پہ کرے تھا وہ یار بحثایک ایک بات پر تھی اسے شب ہزار بحثممنون نظام الدین
- ترے بیمار کی شاید وداع جان ہے تن سےجنازے کی وگرنہ واں ہے تیاری کا کیا باعثممنون نظام الدین
- رہے ہے روکش نشتر ہر آبلہ دل کایہ حوصلہ ہے کوئی بلبے حوصلہ دل کاممنون نظام الدین
- کوئی ہمدرد نہ ہمدم نہ یگانہ اپناروبرو کس کے کہیں ہم یہ فسانا اپناممنون نظام الدین
- آہ میں کچھ نظر آئی نہ اثر کی صورتیہ وہ ہے نخل کہ دیکھی نہ ثمر کی صورتمنشی شیو پرشاد وہبی
- اس سنگ دل کے دل میں محبت نے گھر کیامدت کے بعد آہ نے اپنی اثر کیامنشی شیو پرشاد وہبی
- جان جاتی ہے مری ان کو خبر کچھ بھی نہیںتجھ میں او نالۂ جاں سوز اثر کچھ بھی نہیںمنشی شیو پرشاد وہبی
- دل میں اس بانیٔ بیداد کے گھر ہونے دورفتہ رفتہ مری آہوں کا اثر ہونے دومنشی شیو پرشاد وہبی
- سمایا جب سے ہے وہ گلعذار آنکھوں میںہر ایک گل نظر آتا ہے خار آنکھوں میںمنشی شیو پرشاد وہبی
- شب فراق میں رویا کیا سحر کے لئےترس ترس گئیں آہیں مری اثر کے لئےمنشی شیو پرشاد وہبی
- شب وصل انہیں ضد اگر ہو گئینقاب اٹھتے اٹھتے سحر ہو گئیمنشی شیو پرشاد وہبی
- عشق ابرو کا ہوا زلف رسا سے پہلےکیا تماشا ہے کہ مرتے ہیں قضا سے پہلےمنشی شیو پرشاد وہبی
- عشق صادق نے دکھایا یہ اثر آپ سے آپہو گئی ان کو مرے دل کی خبر آپ سے آپمنشی شیو پرشاد وہبی
- غم فراق کا کھٹکا وصال یار میں ہےخزاں کا خوف ہمیں موسم بہار میں ہےمنشی شیو پرشاد وہبی
- نخل امید میں ثمر آیاحسن ان کا مراد پر آیامنشی شیو پرشاد وہبی
- ہو نہ رسوائے زمانہ مہ کامل کی طرحمیرے سینے میں رہو آ کے مرے دل کی طرحمنشی شیو پرشاد وہبی
- ہوں دفن مر کے کوچۂ جاناں کے سامنےبلبل کا آشیاں ہو گلستاں کے سامنےمنشی شیو پرشاد وہبی
- جھڑکی نہیں دیتے ہیں کہ غصہ نہیں ہوتاعاشق پہ ستم وصل میں کیا کیا نہیں ہوتامنشی شیو پرشاد وہبی
- بحث کرنے کی نہیں ہے مجھے عادت واعظمے و معشوق ہیں میرے لئے جنت واعظمنشی ٹھاکر پرساد طالب
- پرتو ہے تیرے رخ کا جو جام شراب میںآتا ہے ماہتاب نظر آفتاب میںمنشی ٹھاکر پرساد طالب
- پردۂ چشم سے لہو نکلاقطرہ بادل سے سرخ رو نکلامنشی ٹھاکر پرساد طالب
- پھری ہے کیوں نگہ دل ربا نہیں معلومہے اس ادا میں بھی کس کی قضا نہیں معلوممنشی ٹھاکر پرساد طالب
- حال انجام سے پیری میں خبردار ہوئےحیف صد حیف کہ اب خواب سے بیدار ہوئےمنشی ٹھاکر پرساد طالب
- دل جو پہلے ہی سے محو رخ جاناں ہوتاکس لئے زلف میں پھنستا جو پریشاں ہوتامنشی ٹھاکر پرساد طالب
- دل کو پیری میں محبت کا تری جوش آیابے خودی شب کو رہی وقت سحر ہوش آیامنشی ٹھاکر پرساد طالب
- دھیان عارض کا ہوا زلف چلیپا دیکھ کریاد کعبہ آ گیا مجھ کو کلیسا دیکھ کرمنشی ٹھاکر پرساد طالب
- شگفتہ اپنا دل داغدار رہتا ہےیہاں خزاں میں بھی لطف بہار رہتا ہےمنشی ٹھاکر پرساد طالب
- غم سے فارغ ترے ہرگز دل ناشاد نہ ہوجو گرفتار محبت ہے وہ آزاد نہ ہومنشی ٹھاکر پرساد طالب