Poetry

Poet
Meter
  1. تم یوں ہی سمجھنا کہ فنا میرے لیے ہےپر غیب سے سامان بقا میرے لیے ہےمحمد علی جوہر
  2. تنہائی کے سب دن ہیں، تنہائی کی سب راتیںاب ہونے لگیں ان سے ، خلوت میں ملاقاتیںمحمد علی جوہر
  3. خاک جینا ہے اگر موت سے ڈرنا ہے یہیہوس زیست ہو اس درجہ تو مرنا ہے یہیمحمد علی جوہر
  4. خوگر جور پہ تھوڑی سی جفا اور سہیاس قدر ظلم پہ موقوف ہے کیا اور سہیمحمد علی جوہر
  5. دل کو ہلاک جلوۂ جاناں بنائیےاس بت کدے کو کعبۂ ایماں بنائیےمحمد علی جوہر
  6. دور حیات آئے گا قاتل قضا کے بعدہے ابتدا ہماری تری انتہا کے بعدمحمد علی جوہر
  7. ڈر نہیں مجھ کو گناہوں کی گراں باری کاتیری رحمت ہے سبب میری سبک ساری کامحمد علی جوہر
  8. عرش تک جو بے خطا جاتا ہے یہ وہ تیر ہےغیر سمجھا ہے کہ میری آہ بے تاثیر ہےمحمد علی جوہر
  9. قید اور قید بھی تنہائی کیشرم رہ جائے شکیبائی کیمحمد علی جوہر
  10. کس سے آزردہ مرے قاتل کا خنجر ہو گیاکیا ہوا جو آج یوں جامے سے باہر ہو گیامحمد علی جوہر
  11. گلہ اے دل ابھی سے کرتا ہےعشق کا دم اسی پہ بھرتا ہےمحمد علی جوہر
  12. ہم معنی ہوس نہیں اے دل ہوائے دوستراضی ہو بس اسی میں ہو جس میں رضائے دوستمحمد علی جوہر
  13. تجھے کچھ یاد ہے پہلا وہ عالم عشق پنہاں کاشگاف پردہ سے کیا تھا اشارہ چشم فتاں کاممنون نظام الدین
  14. تجھے نقش ہستی مٹایا تو دیکھاجو پردہ تھا حائل اٹھایا تو دیکھاممنون نظام الدین
  15. جو بعد مرگ بھی دل کو رہی کنار میں جاتو سو چکا میں فراغت سے بس مزار میں جاممنون نظام الدین
  16. جھکی نگہ میں ہے ڈھب پرسش نہانی کاحیا میں زور دیا رنگ مہربانی کاممنون نظام الدین
  17. رکھے ہے رنگ کچھ ساقی شراب ناب آتش کامقطر کیا کیا لے کر گل شاداب آتش کاممنون نظام الدین
  18. کب گل ہے ہوا خواہ صبا اپنے چمن کاوا جنبش دم سے ہے رفو زخم کہن کاممنون نظام الدین
  19. کل وصل میں بھی نیند نہ آئی تمام شبایک ایک بات پر تھی لڑائی تمام شبممنون نظام الدین
  20. کھا کے کل ہو پیچ و تاب اٹھا جو دل سے نالہ تھاجا کے گردوں پہ چمکتا شعلۂ جوالہ تھاممنون نظام الدین
  21. گماں نہ کیونکہ کروں تجھ پہ دل چرانے کاجھکا کے آنکھ سبب کیا ہے مسکرانے کاممنون نظام الدین
  22. نور مہ کو شب تہ ابر تنک کیا لاف تھابال اس مکھڑے سے اٹھ جاتے تو مطلع صاف تھاممنون نظام الدین
  23. ہر حرف آرزو پہ کرے تھا وہ یار بحثایک ایک بات پر تھی اسے شب ہزار بحثممنون نظام الدین
  24. ترے بیمار کی شاید وداع جان ہے تن سےجنازے کی وگرنہ واں ہے تیاری کا کیا باعثممنون نظام الدین
  25. رہے ہے روکش نشتر ہر آبلہ دل کایہ حوصلہ ہے کوئی بلبے حوصلہ دل کاممنون نظام الدین
  26. کوئی ہمدرد نہ ہمدم نہ یگانہ اپناروبرو کس کے کہیں ہم یہ فسانا اپناممنون نظام الدین
  27. آہ میں کچھ نظر آئی نہ اثر کی صورتیہ وہ ہے نخل کہ دیکھی نہ ثمر کی صورتمنشی شیو پرشاد وہبی
  28. اس سنگ دل کے دل میں محبت نے گھر کیامدت کے بعد آہ نے اپنی اثر کیامنشی شیو پرشاد وہبی
  29. جان جاتی ہے مری ان کو خبر کچھ بھی نہیںتجھ میں او نالۂ جاں سوز اثر کچھ بھی نہیںمنشی شیو پرشاد وہبی
  30. دل میں اس بانیٔ بیداد کے گھر ہونے دورفتہ رفتہ مری آہوں کا اثر ہونے دومنشی شیو پرشاد وہبی
  31. سمایا جب سے ہے وہ گلعذار آنکھوں میںہر ایک گل نظر آتا ہے خار آنکھوں میںمنشی شیو پرشاد وہبی
  32. شب فراق میں رویا کیا سحر کے لئےترس ترس گئیں آہیں مری اثر کے لئےمنشی شیو پرشاد وہبی
  33. شب وصل انہیں ضد اگر ہو گئینقاب اٹھتے اٹھتے سحر ہو گئیمنشی شیو پرشاد وہبی
  34. عشق ابرو کا ہوا زلف رسا سے پہلےکیا تماشا ہے کہ مرتے ہیں قضا سے پہلےمنشی شیو پرشاد وہبی
  35. عشق صادق نے دکھایا یہ اثر آپ سے آپہو گئی ان کو مرے دل کی خبر آپ سے آپمنشی شیو پرشاد وہبی
  36. غم فراق کا کھٹکا وصال یار میں ہےخزاں کا خوف ہمیں موسم بہار میں ہےمنشی شیو پرشاد وہبی
  37. نخل امید میں ثمر آیاحسن ان کا مراد پر آیامنشی شیو پرشاد وہبی
  38. ہو نہ رسوائے زمانہ مہ کامل کی طرحمیرے سینے میں رہو آ کے مرے دل کی طرحمنشی شیو پرشاد وہبی
  39. ہوں دفن مر کے کوچۂ جاناں کے سامنےبلبل کا آشیاں ہو گلستاں کے سامنےمنشی شیو پرشاد وہبی
  40. جھڑکی نہیں دیتے ہیں کہ غصہ نہیں ہوتاعاشق پہ ستم وصل میں کیا کیا نہیں ہوتامنشی شیو پرشاد وہبی
  41. بحث کرنے کی نہیں ہے مجھے عادت واعظمے و معشوق ہیں میرے لئے جنت واعظمنشی ٹھاکر پرساد طالب
  42. پرتو ہے تیرے رخ کا جو جام شراب میںآتا ہے ماہتاب نظر آفتاب میںمنشی ٹھاکر پرساد طالب
  43. پردۂ چشم سے لہو نکلاقطرہ بادل سے سرخ رو نکلامنشی ٹھاکر پرساد طالب
  44. پھری ہے کیوں نگہ دل ربا نہیں معلومہے اس ادا میں بھی کس کی قضا نہیں معلوممنشی ٹھاکر پرساد طالب
  45. حال انجام سے پیری میں خبردار ہوئےحیف صد حیف کہ اب خواب سے بیدار ہوئےمنشی ٹھاکر پرساد طالب
  46. دل جو پہلے ہی سے محو رخ جاناں ہوتاکس لئے زلف میں پھنستا جو پریشاں ہوتامنشی ٹھاکر پرساد طالب
  47. دل کو پیری میں محبت کا تری جوش آیابے خودی شب کو رہی وقت سحر ہوش آیامنشی ٹھاکر پرساد طالب
  48. دھیان عارض کا ہوا زلف چلیپا دیکھ کریاد کعبہ آ گیا مجھ کو کلیسا دیکھ کرمنشی ٹھاکر پرساد طالب
  49. شگفتہ اپنا دل داغدار رہتا ہےیہاں خزاں میں بھی لطف بہار رہتا ہےمنشی ٹھاکر پرساد طالب
  50. غم سے فارغ ترے ہرگز دل ناشاد نہ ہوجو گرفتار محبت ہے وہ آزاد نہ ہومنشی ٹھاکر پرساد طالب