Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. جہان عشق میں وہ با وقار ہو کے چلےجو کوئے یار میں سجدہ گزار ہو کے چلےCharkh Chinioti
  2. عقل حیران ہے رحمت کا تقاضا کیا ہےدل کو تقصیر کی ترغیب تماشا کیا ہےCharkh Chinioti
  3. فضا میں کیف فشاں پھر سحاب ہے ساقیپھر اپنے رنگ پہ دور شباب ہے ساقیCharkh Chinioti
  4. قرار کھو کے چلے بے قرار ہو کے چلےادا ادا پہ تری ہم نثار ہو کے چلےCharkh Chinioti
  5. کب غریبوں کو اجالوں کی خبر ہوتی ہےزندگی ان کی اندھیروں میں بسر ہوتی ہےCharkh Chinioti
  6. گنگناتی ہوئی آواز کہاں سے لاؤںتیری آواز کا انداز کہاں سے لاؤںCharkh Chinioti
  7. مچلیں گے ان کے آنے پہ جذبات سینکڑوںہنس بولنے کی ہوں گی حکایات سینکڑوںCharkh Chinioti
  8. میں اک اک آشنا سے آشنا ہوںخلوص ان میں ہے کتنا جانتا ہوںCharkh Chinioti
  9. ہر بات کاٹتے ہیں وہ تلوار کی طرحاحباب کا سلوک ہے اغیار کی طرحCharkh Chinioti
  10. ہم جو مل بیٹھیں تو یک جان بھی ہو سکتے ہیںپورے اپنے سبھی ارمان بھی ہو سکتے ہیںCharkh Chinioti
  11. اوم کا جھنڈا فضاؤں میں اڑاتا آیااسے تہذیب کا سرتاج بناتا آیاCharkh Chinioti
  12. ایک مرد با صفا تھا ڈاکٹر ذاکر حسیننیک دل فرماں روا تھا ڈاکٹر ذاکر حسینCharkh Chinioti
  13. باپو نے ہر انسان کو انساں سمجھابہبودئ ہر فرد کو ایماں سمجھاCharkh Chinioti
  14. جل رہے ہیں دئے منڈیروں پرہو رہا ہے کرم اندھیروں پرCharkh Chinioti
  15. زندگی اترا رہی ہے آج تیرے نام پرناز ہے پیغمبروں کو بھی ترے پیغام پرCharkh Chinioti
  16. زیست کا ترجماں ہے میرا کرشنیعنی جان جہاں ہے میرا کرشنCharkh Chinioti
  17. یوم جمہور تیرے آنے پرناچ اٹھے ہیں مسرتوں کے پیامCharkh Chinioti
  18. اتنا طلسم یاد کے چقماق میں رہاروشن چراغ دور کسی طاق میں رہاEjaz Gul
  19. استادہ ہے جب سامنے دیوار کہوں کیاحاصل بھی نہیں روزن درکار کہوں کیاEjaz Gul
  20. اسی جنت جہنم میں مروں گاگئے موسم کو آوازیں نہ دوں گاEjaz Gul
  21. پیچاک عمر اپنے سنوار آئنے کے ساتھباقی کے چار دن بھی گزار آئنے کے ساتھEjaz Gul
  22. پیشتر جنبش لب بات سے پہلے کیا تھاذہن میں صفر کی اوقات سے پہلے کیا تھاEjaz Gul
  23. جو قصہ گو نے سنایا وہی سنا گیا ہےاگر تھا اس سے سوا تو نہیں کہا گیا ہےEjaz Gul
  24. چل رہا ہوں پیش و پس منظر سے اکتایا ہواایک سے دن رات کے چکر سے اکتایا ہواEjaz Gul
  25. خاشاک سے خزاں میں رہا نام باغ کاورنہ تو ہر درخت پہ قبضہ ہے زاغ کاEjaz Gul
  26. در کھول کے دیکھوں ذرا ادراک سے باہریہ شور سا کیسا ہے مری خاک سے باہرEjaz Gul
  27. دشوار ہے اب راستا آسان سے آگےرکھ عمر کہن پچھلا قدم دھیان سے آگےEjaz Gul
  28. صورت سحر جاؤں اور در بدر جاؤںاب تو فیصلہ ٹھہرا رات سے گزر جاؤںEjaz Gul
  29. عکس ابھرا نہ تھا آئینۂ دل داری کاہجر نے کھینچ دیا دائرہ زنگاری کاEjaz Gul
  30. قافلہ اترا صحرا میں اور پیش وہی منظر آئےراکھ اڑی خیمہ گاہوں کی خون میں لتھڑے سر آئےEjaz Gul
  31. کبھی قطار سے باہر کبھی قطار کے بیچمیں ہجر زاد ہوا خرچ انتظار کے بیچEjaz Gul
  32. کسے خیال تھا ایسی بھی ساعتیں ہوں گیکہ میرے نام سے بھی تجھ کو وحشتیں ہوں گیEjaz Gul
  33. گلی سے اپنی اٹھاتا ہے وہ بہانے سےمیں بے خبر رہوں دنیا کے آنے جانے سےEjaz Gul
  34. گلیوں میں بھٹکنا رہ آلام میں رہنایاں سب کو ہے ناکامیٔ یک گام میں رہناEjaz Gul
  35. محمل ہے مطلوب نہ لیلیٰ مانگتا ہےچاک گریباں قیس تو صحرا مانگتا ہےEjaz Gul
  36. ہم تم جب بھی پیار کریں گے جان و دل صدقے ہوں گےروحوں کی خوشبو میں ہوں گی باہوں کے گجرے ہوں گےEjaz Gul
  37. یہ گھومتا ہوا آئینہ اپنا ٹھہرا کےذرا دکھا مرا رفتہ تو چرخ پلٹا کےEjaz Gul
  38. یہیں تھا بیٹھا ہوا درمیاں کہاں گیا میںکہ مل رہا نہیں اپنا نشاں کہاں گیا میںEjaz Gul
  39. برگ آوارہ صدا آئے ہیںکوئی آوازۂ پا لائے ہیںEjaz Gul
  40. کس نے کھینچی ہیں لکیریں مرے دروازے پرکون ہے جو کہ دبے پاؤں چلا آیا ہےEjaz Gul
  41. گزرتے وقت کے ویراں جزیروں کی سزا پیشانیوں پر ثبت ہےآزردگی کے کیل جسموں میں گڑے ہیںEjaz Gul
  42. سست رو مسافر کی قسمتوں پہ کیا روناتیز چلنے والا بھی دشت بے اماں میں ہےEjaz Gul
  43. نہیں کھلتا کہ آخر یہ طلسماتی تماشا سازمیں کے اس طرف اور آسماں کے اس طرف کیا ہےEjaz Gul
  44. اثر آہ کا گر دکھائیں گے ہمابھی کھینچ کر تم کو لائیں گے ہممیر مہدی مجروح
  45. اس کے جو جو کہ فوائد ہیں خود دیکھتے جاؤسچ کہا ہے یہ کسی نے کہ پیو اور پلاؤمیر مہدی مجروح
  46. اس کے نبھنے کے کچھ نہیں اسبابوہ تغافل شعار میں بے تابمیر مہدی مجروح
  47. ایک سے ربط ایک سے ہے بگاڑروز ہے واں یہی اکھاڑ پچھاڑمیر مہدی مجروح
  48. بس کہ اک جنس رائیگاں ہوں میںجتنا ارزاں بکوں گراں ہوں میںمیر مہدی مجروح
  49. حرف تم اپنی نزاکت پہ نہ لانا ہرگزہاتھ بیداد و ستم سے نہ اٹھانا ہرگزمیر مہدی مجروح
  50. خانماں سوز ماسوا ہوں میںاپنے سائے سے بھی جدا ہوں میںمیر مہدی مجروح