Poetry
Poet
Meter
- جہان عشق میں وہ با وقار ہو کے چلےجو کوئے یار میں سجدہ گزار ہو کے چلےCharkh Chinioti
- عقل حیران ہے رحمت کا تقاضا کیا ہےدل کو تقصیر کی ترغیب تماشا کیا ہےCharkh Chinioti
- فضا میں کیف فشاں پھر سحاب ہے ساقیپھر اپنے رنگ پہ دور شباب ہے ساقیCharkh Chinioti
- قرار کھو کے چلے بے قرار ہو کے چلےادا ادا پہ تری ہم نثار ہو کے چلےCharkh Chinioti
- کب غریبوں کو اجالوں کی خبر ہوتی ہےزندگی ان کی اندھیروں میں بسر ہوتی ہےCharkh Chinioti
- گنگناتی ہوئی آواز کہاں سے لاؤںتیری آواز کا انداز کہاں سے لاؤںCharkh Chinioti
- مچلیں گے ان کے آنے پہ جذبات سینکڑوںہنس بولنے کی ہوں گی حکایات سینکڑوںCharkh Chinioti
- میں اک اک آشنا سے آشنا ہوںخلوص ان میں ہے کتنا جانتا ہوںCharkh Chinioti
- ہر بات کاٹتے ہیں وہ تلوار کی طرحاحباب کا سلوک ہے اغیار کی طرحCharkh Chinioti
- ہم جو مل بیٹھیں تو یک جان بھی ہو سکتے ہیںپورے اپنے سبھی ارمان بھی ہو سکتے ہیںCharkh Chinioti
- اوم کا جھنڈا فضاؤں میں اڑاتا آیااسے تہذیب کا سرتاج بناتا آیاCharkh Chinioti
- ایک مرد با صفا تھا ڈاکٹر ذاکر حسیننیک دل فرماں روا تھا ڈاکٹر ذاکر حسینCharkh Chinioti
- باپو نے ہر انسان کو انساں سمجھابہبودئ ہر فرد کو ایماں سمجھاCharkh Chinioti
- جل رہے ہیں دئے منڈیروں پرہو رہا ہے کرم اندھیروں پرCharkh Chinioti
- زندگی اترا رہی ہے آج تیرے نام پرناز ہے پیغمبروں کو بھی ترے پیغام پرCharkh Chinioti
- زیست کا ترجماں ہے میرا کرشنیعنی جان جہاں ہے میرا کرشنCharkh Chinioti
- یوم جمہور تیرے آنے پرناچ اٹھے ہیں مسرتوں کے پیامCharkh Chinioti
- اتنا طلسم یاد کے چقماق میں رہاروشن چراغ دور کسی طاق میں رہاEjaz Gul
- استادہ ہے جب سامنے دیوار کہوں کیاحاصل بھی نہیں روزن درکار کہوں کیاEjaz Gul
- اسی جنت جہنم میں مروں گاگئے موسم کو آوازیں نہ دوں گاEjaz Gul
- پیچاک عمر اپنے سنوار آئنے کے ساتھباقی کے چار دن بھی گزار آئنے کے ساتھEjaz Gul
- پیشتر جنبش لب بات سے پہلے کیا تھاذہن میں صفر کی اوقات سے پہلے کیا تھاEjaz Gul
- جو قصہ گو نے سنایا وہی سنا گیا ہےاگر تھا اس سے سوا تو نہیں کہا گیا ہےEjaz Gul
- چل رہا ہوں پیش و پس منظر سے اکتایا ہواایک سے دن رات کے چکر سے اکتایا ہواEjaz Gul
- خاشاک سے خزاں میں رہا نام باغ کاورنہ تو ہر درخت پہ قبضہ ہے زاغ کاEjaz Gul
- در کھول کے دیکھوں ذرا ادراک سے باہریہ شور سا کیسا ہے مری خاک سے باہرEjaz Gul
- دشوار ہے اب راستا آسان سے آگےرکھ عمر کہن پچھلا قدم دھیان سے آگےEjaz Gul
- صورت سحر جاؤں اور در بدر جاؤںاب تو فیصلہ ٹھہرا رات سے گزر جاؤںEjaz Gul
- عکس ابھرا نہ تھا آئینۂ دل داری کاہجر نے کھینچ دیا دائرہ زنگاری کاEjaz Gul
- قافلہ اترا صحرا میں اور پیش وہی منظر آئےراکھ اڑی خیمہ گاہوں کی خون میں لتھڑے سر آئےEjaz Gul
- کبھی قطار سے باہر کبھی قطار کے بیچمیں ہجر زاد ہوا خرچ انتظار کے بیچEjaz Gul
- کسے خیال تھا ایسی بھی ساعتیں ہوں گیکہ میرے نام سے بھی تجھ کو وحشتیں ہوں گیEjaz Gul
- گلی سے اپنی اٹھاتا ہے وہ بہانے سےمیں بے خبر رہوں دنیا کے آنے جانے سےEjaz Gul
- گلیوں میں بھٹکنا رہ آلام میں رہنایاں سب کو ہے ناکامیٔ یک گام میں رہناEjaz Gul
- محمل ہے مطلوب نہ لیلیٰ مانگتا ہےچاک گریباں قیس تو صحرا مانگتا ہےEjaz Gul
- ہم تم جب بھی پیار کریں گے جان و دل صدقے ہوں گےروحوں کی خوشبو میں ہوں گی باہوں کے گجرے ہوں گےEjaz Gul
- یہ گھومتا ہوا آئینہ اپنا ٹھہرا کےذرا دکھا مرا رفتہ تو چرخ پلٹا کےEjaz Gul
- یہیں تھا بیٹھا ہوا درمیاں کہاں گیا میںکہ مل رہا نہیں اپنا نشاں کہاں گیا میںEjaz Gul
- برگ آوارہ صدا آئے ہیںکوئی آوازۂ پا لائے ہیںEjaz Gul
- کس نے کھینچی ہیں لکیریں مرے دروازے پرکون ہے جو کہ دبے پاؤں چلا آیا ہےEjaz Gul
- گزرتے وقت کے ویراں جزیروں کی سزا پیشانیوں پر ثبت ہےآزردگی کے کیل جسموں میں گڑے ہیںEjaz Gul
- سست رو مسافر کی قسمتوں پہ کیا روناتیز چلنے والا بھی دشت بے اماں میں ہےEjaz Gul
- نہیں کھلتا کہ آخر یہ طلسماتی تماشا سازمیں کے اس طرف اور آسماں کے اس طرف کیا ہےEjaz Gul
- اثر آہ کا گر دکھائیں گے ہمابھی کھینچ کر تم کو لائیں گے ہممیر مہدی مجروح
- اس کے جو جو کہ فوائد ہیں خود دیکھتے جاؤسچ کہا ہے یہ کسی نے کہ پیو اور پلاؤمیر مہدی مجروح
- اس کے نبھنے کے کچھ نہیں اسبابوہ تغافل شعار میں بے تابمیر مہدی مجروح
- ایک سے ربط ایک سے ہے بگاڑروز ہے واں یہی اکھاڑ پچھاڑمیر مہدی مجروح
- بس کہ اک جنس رائیگاں ہوں میںجتنا ارزاں بکوں گراں ہوں میںمیر مہدی مجروح
- حرف تم اپنی نزاکت پہ نہ لانا ہرگزہاتھ بیداد و ستم سے نہ اٹھانا ہرگزمیر مہدی مجروح
- خانماں سوز ماسوا ہوں میںاپنے سائے سے بھی جدا ہوں میںمیر مہدی مجروح