خاشاک سے خزاں میں رہا نام باغ کا

Ejaz Gul

خاشاک سے خزاں میں رہا نام باغ کا

ورنہ تو ہر درخت پہ قبضہ ہے زاغ کا

حیرت ہے سب تلاش پہ اس کی رہے مصر

پایا گیا سراغ نہ جس بے سراغ کا

ہے ارتکاز ذات میں وقفہ ذرا سی دیر

ٹوٹا نہیں ہے رابطہ لو سے چراغ کا

کب کس پہ مہربان ہو اور کب الٹ پڑے

کس کو یہاں پتا ہے کسی کے دماغ کا

ہوتا ہے پھر وہ اور کسی یاد کے سپرد

رکھتا ہوں جو سنبھال کے لمحہ فراغ کا

مشق سخن میں دل بھی ہمیشہ سے ہے شریک

لیکن ہے اس میں کام زیادہ دماغ کا