یہ گھومتا ہوا آئینہ اپنا ٹھہرا کے
Ejaz Gulیہ گھومتا ہوا آئینہ اپنا ٹھہرا کے
ذرا دکھا مرا رفتہ تو چرخ پلٹا کے
ہے کائنات معمہ جدا طریقے کا
فقط سلجھتا ہے آپس میں گرہیں الجھا کے
نتیجہ ایک سا نکلا دماغ اور دل کا
کہ دونوں ہار گئے امتحاں میں دنیا کے
مسافروں سے رہا ہے وہ راستا آباد
پلٹ کے آئے نہیں جس سے پیش رو جا کے
یہ ہجر زاد سمجھتا ہے کم وصال کی بات
بتا جو رمز و کنایہ ہیں خوب پھیلا کے
کہ بند رہتا ہے شہر طلب کا دروازہ
یقین آیا مجھے بار بار جا آ کے
خفیف ہو کے میں چہرے کو پھیر لیتا ہوں
اگر گزرتا ہے تجھ آشنا سا کترا کے
جواب میرا غلط تھا سوال اس کا درست
کھلا یہ مجھ پہ کسی ناسمجھ کو سمجھا کے