فضا میں کیف فشاں پھر سحاب ہے ساقی
Charkh Chiniotiفضا میں کیف فشاں پھر سحاب ہے ساقی
پھر اپنے رنگ پہ دور شباب ہے ساقی
یہ تلخ یادیں کم از کم بھلا تو دیتی ہے
شراب کچھ بھی ہو آخر شراب ہے ساقی
جو اپنی ہستی کی مستی مٹا کے آتا ہے
ترے حضور وہی باریاب ہے ساقی
غم فراق غم زندگی غم دنیا
شراب سارے غموں کا جواب ہے ساقی
تری نگاہوں سے میخانے جام بھرتے ہیں
تری نگاہوں کا کوئی جواب ہے ساقی
بقول چرخؔ یہاں مستیاں ابھرتی ہیں
یہ مے کدہ تو جہان شباب ہے ساقی