صورت سحر جاؤں اور در بدر جاؤں
Ejaz Gulصورت سحر جاؤں اور در بدر جاؤں
اب تو فیصلہ ٹھہرا رات سے گزر جاؤں
واہموں کے زنداں کا ذہن ذہن قیدی ہے
بول فکر تابندہ میں کدھر کدھر جاؤں
میری نارسائی سے قافلہ نہ رک جائے
میں کہ پا شکستہ ہوں راستے میں مر جاؤں
عشق کی صداقت پر جبکہ میرا ایماں ہے
کیسے خودکشی کر لوں کیوں بکھر بکھر جاؤں